Friday, 2 February 2018

*غذا اور پانی کے استعمال کے سلسلے میں زکریا رازی کی ہدایات*

*غذا اور پانی کے استعمال کے سلسلے میں زکریا رازی کی ہدایات*

تحریر: ڈاکٹر محمد یاسر
کنسلٹنگ فزیشین
الحکیم یونانی میڈی کیئر سینٹر

ابوبکر محمد بن زکریا رازی  مشہور یونانی طبیب گزرے ہیں۔انھوں نے طب یونانی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اسپتال کی نگرانی، مریضوں کی دیکھ بھال، اور انتظام و انصرام میں ان کی حکمت عملی بعد کے اطباء کے لئے نشان راہ بنی۔اسپتال کے لئے صحت مند جگہ کا انتخاب،  طبیبوں کی عملی تعلیم کے لئے ان کے مختلف درجات کی تقسیم،  مرض کی روداد (Disease History)  اور متعلقات مرض کے موجودہ ضابطے جو آج کل ڈاکٹر س اپناتے ہیں زیادہ تر رازی کی جدت طبع ہی کے مرہون منت ہیں۔ ا نھوں نے دواؤں کے اثرات اور ہرقسم کی تبدیلیوں کو قلمبند کرنے کی بنیاد ڈالی۔  ابتدائی طبی امداد (Firs Aid) کا طریقہ پہلی مرتبہ انھوں نے ہی اختیار کی اور برء السا عۃ  نامی کتاب بھی اس موضوع پر لکھی۔فن طب میں ان کا بڑا کارنامہ مرض چیچک اور خسرہ پرتحقیق اور دونوں میں تفریق ہے۔  یہچند باتیں اس مقصد سے لکھی گئیں کہ ان کے طبی مقام کا اندازہ ہوسکے۔ ان کی اہم تصنیفات میں سے کتاب الحاوی کے علاوہ کتاب المنصوری بھی ہے۔ اس موخر الذکر کتاب سے جو اختصار کے ساتھ لکھی گئی ہے کھانے پینے کے متعلق اہم ہدایات یہاں بیان کی جارہی ہیں۔آج کل سوشل میڈیا پر صحت کے متعلق بہت سی ایسی  باتیں مختلف عنوانات سے اور مختلف ڈاکٹروں کے حوالے سے پھیلائی جارہی ہیں جو نہ سر رکھتی ہیں نہ پیر۔ بھولے بھالے کم پڑھے لکھے افراد کو  چھوڑیے، بہت سے تعلیم یافتہ لوگ بھی اسے صحیح سمجھ کر آگے فارورڈ کردیتے ہیں اور یہ اندازہ بھی نہیں کرتے کہ اگلے لوگ اس پر عمل کرکے کہیں اپنی صحت خراب نہ کرلیں۔

غذا کے متعلق رازی نے لکھا ہے کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ آدمی اس وقت کھانا کھائے جب پہلے کھانے کا بوجھ کم ہوچکا ہو۔اور پیٹ  میں ہلکا پن محسوس ہونے لگے اور خوب بھوک لگ جائے۔ اسی طرح اگر شدت کی بھوک لگی ہو تو کھانا کھانے میں قطعی دیر  نہ کرے  لیکن کھانے پر ٹوٹ کر بھی نہ گرے۔ کھانے سے شکم کو کبھی اتنا پر نہیں کرنا چاہئے کہ معدہ میں تناؤ عارض ہوجائے یا اس میں بھاری پن محسوس ہونے لگے اور سانس میں تنگی ہونے لگے  اگر اس قدر کھالیا ہو کہ بھوک لگنا بند ہوگئی ہو (جیسا کہ دعوتوں میں کھانے کے بعد اکثروں کو پیش آجاتاہے)تو ایسی صورت میں اسے سکنجبین یا گرم پانی لینا چاہیے اور حرکات بڑھانی چاہیے (یہ زیادہ کھالینے کے مضر اثرات کو دور کرنے کے لئے ہے)  نیز اگلی خوراک اس وقت تک نہ لیں جب تک قئے یا اسہال نہ ہوچکا ہو یا یہ کہ بھوک خوب اچھی طرح نہ لگ جائے۔

ہر آدمی کے لئے ضروری ہے کہ مناسب غذاؤں میں سے عادت کے مطابق خاص مقدار متعین وقت پر کھایا کرے۔اگر بالفرض اس نے باربار کھانے کی عادت ڈال رکھی ہو تو بتدریج کم کرنا چاہیے۔ایک تندرست آدمی کو دن رات میں کم از کم ایک دفعہ اور زیادہ سے زیادہ  دو مرتبہ کھانا کھانا چاہیے۔ سب سے زیادہ متوازن طریقہ یہ ہے کہ دو دن میں تین مرتبہ کھانا کھایا جائے۔ (دیکھئے ہم لوگ دو دن کی غذا ایک دن میں کھالیتے ہیں،اسی پر خوری کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں سے سب لوگ پریشان ہیں۔)کمزور اور خشک بدن لوگوں کو محض ایک دفعہ کھانا کافی نہیں ہے۔ اسی طرح بھاری جثہ کے آدمی کے لئے دو دفعہ کھانا نقصان دہ ہے۔جو آدمی بہت زیادہجسمانی کام کرتا ہے اس کے لئے غذا کی مقدار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کے برعکس صورت میں غذا ہلکی اور کم مقدار میں لینی چاہیے۔ ہر آدمی کو اپنی اپنی عادت کے موافق مناسب خوراک لینی چاہیے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ردی قسم کی غذا کچھ لوگوں کو موافق آجاتی ہے ان کے لئے دوسروں کی طرح اس سے پرہیز ضروری نہیں ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ اچھی چیزیں کسی خاص آدمی کے مزاج کے موافق نہیں ہوتیں اور وہ ان سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مناسب غذاؤں کے ذیل میں وہ تمام چیزیں آتی ہیں جن کی طرف طبیعت کا میلان ہوتا ہے خواہ وہ موذی اور ردی کیوں نہ ہوں۔ میلان طبیعت کی وجہ سے یہ غذائیں موافق آجاتی ہیں بشرطیکہ ان میں خرابی زیادہ نہ ہو۔لیکن ان ردی غذاؤ ں کے مسلسل استعمال سے بھی بہر حال پرہیز کرنا چاہئے یا پھر اس طرح کی غذا لیتے وقت اس کے ساتھ کوئی مصلح لے لیا جائے جو اس غذا کے خراب اثرات کو دور کردے۔

جن اسباب سے ہضم میں فساد آجاتا ہے وہ یہ ہیں، ایک وقت میں مختلف چیزیں کھائی جائیں، بھاری غذا ہلکی غذا سے پہلے لی جائے،طرح طرح کے کھانے ایک ساتھ کھائے جائیں، کھانے کی مدت اتنی بڑھادی جائے کہ شروع کرنے اور ختم کرنے میں خاصا وقت لگ جائے۔ کھانا موسم گرما میں ٹھنڈا اور سردی میں گرم ہونا چاہیے۔لیکن اس امر کی رعایت بہرحال ضروری ہے کہ کھانا سردی میں اتنا گرم نہ ہوکہ چولہے سے اترتے ہی کھالیا جائے اور نہ گرمی میں انتہائی ٹھنڈا کھانا کھایا جائے۔ کھانے کے مناسب ترین ٹھنڈے اوقات(صبح اور شام) ہیں۔تازہ پھل غذا کھانے سے پہلے کھالینا چاہیے اور اگر پھل ترش اور دیر ہضم ہوں جیسے انار وغیرہ تو ان کو کھانے کے بعد لینا مناسب ہے۔اگر ایک روز ثقیل غذا لی گئی ہو تو اگلے روز ہلکی غذا لینی چاہیے۔

پانی پینے کے سلسلے میں حسب ذیل امور کی رعایت ضروری ہے۔نہار منہ پانی نہ پیا جائے، دسترخوان پر یعنی کھانے کے دوران پانی بقدر ضرورت ہی پینا چاہئے کیونکہ اس وقت تھوڑا پانی ہی کافی ہوتا ہے۔اگر کھانے کے فوراً بعد پئیں تو اسی قدر جس سے کہ پیاس کی تسکین ہوجائے۔ سیر ہوکر پانی اسی وقت پئیں جب کہ غذا معدہ سے نیچے اتر چکی ہو۔کمزور اعصاب کے لوگوں کو اور جن کا ہاضمہ ضعیف ہو ان کو برف سے ٹھنڈا کیا ہوا پانی نہیں پینا چاہیے۔ سرخ و توانا اور گرم مزاج لوگوں کو برف کا پانی پینے میں کوئی حرج نہیں۔ غسل، جماع اور محنت یا ورزش کا کام کرنے کے بعد ایک ہی سانس میں بہت زیادہ ٹھنڈا پانی نہیں پینا چاہیے بلکہ وقفہ وقفہ سے چھوٹے چھوٹے گھونٹ پینے چاہئیں۔ اگر کبھی بہت زیادہ پانی پی لینے کے بعد بھی پیاس میں اضافہ اور شدت ہوتی رہے تو اس صورت میں صبر کرنا چاہیے اور پانی کی طرف ہاتھ نہیں بڑھانا چاہئے کیونکہ صرف اسی طرح پیاس میں کمی ہوسکتی ہے۔ جو لوگ وہاٹس ایپ وغیرہ پر نہار منہ پانی پینے کے فوائد پڑھ کر اپنی صحت خراب کررہے ہوں ان سے درخواست ہے کہ طبیب سے مشورہ کرکے ہی اس پرعمل کریں۔صحت کے متعلق کوئی بھی سوال آپ کے ذہن میں ہو تو آپ www.unanihakeem.in  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Friday, 26 January 2018

طب یونانی کا نظریہء مزاج اور عوامی صحت

*طب یونانی کا نظریہء مزاج اور عوامی صحت*

✒*ڈاکٹر محمد یاسر*
ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین، ممبئی۔
کنسلٹنگ یونانی فزیشین : الحکیم یونانی میڈیکیئر سینٹر۔
yasirm7@gmail.com

مزاج کا بننا اور بگڑنا اس موضوع پر شروع کی گئی پچھلی بار کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے ذریعے جہاں ایک طرف یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ جدید ترین وسائل کے ذریعے خورد بینی سطح (Microscopic / Molecular Level) پر بیماریوں کے اسباب اور دواؤ ں پر تحقیقات کے سارے مراحل طئے کرلئے جائیں تاکہ علاج میں خطا کے امکانات ہی نہ رہیں ، وہیں ماہرین کا ایک گروہ اس بات کی کوشش کرتا رہا ہے کہ ایسی مختصر طبی ہدایات (Medical Guidelines) وضع کی جائیں جو عوام کے لئے سمجھنے میں انتہائی آسان ہوں جن کے ذریعے وہ اپنی صحت کی حفاظت کر سکیں اور بیماریوں سے روک تھام میں ان اصول و ضوابط کے پابند رہیں۔ اس طرح کی ہدایات معاشرے میں قبولیت حاصل کریں اس کے لئے بااثر شخصیات اور موثر ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یہ دونوں طرح کی محنتیں مفید اور ضروری ہیں۔ایک حقیقت یہ ہے کہ افراد سے جب معاشرہ بنتا ہے تو اس مجموعے میں عقلی قوت عمل کمزور پڑ جاتی ہے اور احساسات فعال ہوجاتے ہیں۔عقل پر جذبات کی اس فوقیت کی وجہ سے تعلیم یافتہ افرا د کبھی حیران ہوتے ہیں کبھی غصہ ہوتے ہیں لیکن ایسے رد عمل سے افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔لوگوں کے دلوں تک اپنی بات پہونچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انبیاء علیہم السلام کا طریق محنت یہی تھا کہ وہ دماغوں سے زیادہ دلوں پر محنت کرتے تھے۔
یہاں غور کرنے کی بات ہے کہ معاشرے میں پہلے سے رائج طریقہ ہائے علاج مثلاً طب یونانی کی اکثر تعلیمات ایسی ہیں جو عوام میں مقبول ہیں۔ ہاں کئی جگہ طبی علم کی کمی سے یہ تعلیمات کچھ بدل چکی ہیں۔ لیکن تھوڑی توجہ سے درست ہو سکتی ہیں اس لئے کہ مسلم معاشرے میں طب یونانی سے آج بھی محبت و عقیدت ہے۔اس عقیدت کا غلط فائدہ اٹھانے والے بہت سے لوگ اپنے کاروبار کر رہے ہیں لیکن سنجیدگی کے ساتھ اس سماجی عقیدت کا صحیح استعمال کرکے معاشرے کوبے حد مفیدطبی تحفہ دیا جاسکتا ہے۔ دیکھئے میں پھر آپ کو یاد دلاتا ہوں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا ہمارے ہی گھروں میں جب بچے شوق سے کسی پھل کو زیادہ کھانے لگتے ہیں تو انھیں یہ کہا جاتاہے کہ بیٹا! یہ ٹھنڈا ہے زیادہ کھاؤ گے تو سردی ہوجائے گی۔ اسی طرح بڑی بوڑھیاں گھروں میں حاملہ عورتوں کو کہتی ہیں کہ فلاں چیزگرم ہے ، تم نہ کھانا یہ تمہیں نقصان کرے گی۔کسی غذا کے گرم مزاج کی وجہ سے اس کا حمل کے ایام میں باعث نقصان ہونے کا تصور طب یونانی سے ہی سماج میں آیا ہے۔ اس قسم کے بے شمارطبی تصورات اور جامع ہدایات ہیں جو معاشرے میں سرایت پذیر ہیں۔اس طب کی صحیح معلومات کو طب یونانی کے ان ماہرین کے ذریعے جو قدیم و جدید دونوں سے اچھی واقفیت رکھتے ہوں اگر عام کرنے کی کوشش کی جائے تو کم وقت میں معاشرے کو حفظان صحت کے زیادہ اصول سمجھائے جاسکتے ہیں اور ایک بڑی طبی ضرورت کم محنت سے پوری ہوسکتی ہے۔
مزاج اسی طرح کا اہم طبی تصور ہے۔اشیائے خورد و نوش کا مزاج یہ سمجھنے میں معاون ہے کہ ان کا استعمال بدن انسانی میں کن اثرات کو پیدا کر سکتا ہے اورانھیں کب کتنا استعمال کرنا چاہئے کب نہیں۔ آج کل تحقیقات کی اس قدر بھر مار ہے کہ عام آدمی تو دور ، ایک عام طبیب بھی حیران ہوجاتا ہے کہ کس کو مانے، کس کو چھوڑے؟ اگر کوئی غذا یا تدبیر کسی بیماری میں مفید پائی گئی ہے تو وہی مضر بھی ثابت کر دی گئی ہے۔آپ یہ پڑھ کر پریشان نہ ہوں ۔ ترقی کے اس دور میں ہر چیز ممکن ہے۔ ایسے حالات میں یونانی طب آپ کے لئے رہنما ہے جودنیا میں سب سے زیادہ طویل مدت کے تجربات پر مبنی ہے اور سب سے زیادہ قوموں اور علاقوں پر آزمائی گئی ہے ۔
موسموں کا مزاج حسب ضرورت مختلف مفید تدابیر اختیار کرنے میں رہنمائی کرتا ہے تاکہ موسموں کی مضرت اور اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ماضی قریب کا یہ واقعہ کتابوں میں درج ہے کہ مسیح الملک حکیم اجمل خاں صاحب کے زمانے میں ایک علاقے میں وباء پھیلی۔ حکیم صاحب نے اس بیماری اور موسم کے مزاج کوسمجھتے ہوئے چند دواؤں پر مشتمل ایک آسان سا نسخہ تجویز کیا۔ایک رفاہی تنظیم نے اسے عوام میں مفت تقسیم کیاجس کی بدولت نہ صرف اس وباء سے حفاظت میں بہت مدد ملی بلکہ کئی مریضوں نے شفاء بھی پائی۔
پھر مختلف انسانوں کا مختلف مزاج عمر کے مختلف مراحل بچپن ، جوا نی اور بڑھا پے میں بدلنے کے باوجو د کلی طور سے ہر ایک فرد میں ایک انفرادی امتیاز رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے جہاں کسی شخص کی حرکات و سکنات ، ذہنی کیفیت، طبعی افعال اورحالت صحت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے وہیں یہ بھی بتایا جاسکتا ہے کہ وہ کن امراض سے جلد متاثر ہو سکتا ہے اور ان سے بچاؤ کی کیا صورت ممکن ہے۔بہت سے ہارمون (Hormone)کی غیرطبعی مقدارسیہونے والے امراض کے علاوہ کچھ جنینی(Genetic) امراض کا اندازہ اور ان سے حفاظت و علاج کے لئے بھی مزاج معاون ہے۔ اس کو سطحی طور سے سمجھنے کے لئے مثال یہ سمجھئے کہ کوئی آلہ یا سامان تین مختلف مادوں (Material) سے بنایا گیا ہو ایک لکڑی کا ہو ایک لوہے کا اور ایک پلاسٹک کا ۔ اور تینوں ایک ہی مقصدکے لئے استعمال ہوسکتے ہوں تو جاننے والے کہتے ہیں کا تینوں میں کس کا کون سا کام اچھا ہے کون سا خراب، کون زیادہ پائیدار ہے اور کون کم، کون استعمال میں آسان ہے اور کون مشکل۔ کس میں کیا خرابی پیدا ہوتی ہے اور کیسے دور ہوتی ہے ۔ اس کے ماہرین یہ بھی بتادیتے ہیں کہ کس شخص کے لئے کون سے مٹیریل سے بنا ہوا سامان لینا بہتر ہوگا۔ انسانی مزاج بھی اسی سے کچھ سمجھا جاسکتا ہے لیکن اس میں زندہ جاندار ہونے کے اعتبار سے مزید تفصیلات ہیں۔
خلاق عالم نے انسانی تخلیق کے وقت عناصر کے امتزج کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مزاج اور جنینی تقدیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

خَلَقَہٗ  فَقَدَّرَہٗ  (اسے پیدا بھی کیا، پھر اس کو ایک خاص انداز بھی دیا۔)

اس جامع لفظ ’خاص انداز‘ سے( آگ، ہوا ، پانی ، مٹی جیسی مختلف کیفیات والی چیزوں پر منحصر) انسان کے پیدا ہونے کے وقت ہی امتزاجی کیفیت سے دجود میں آنے والے تقدیری احوال کی پیش گوئی کردی۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ تقدیر کی وہ قسم ہے جس کا تعلق جنینیات (Genetics) سے ہے۔ علم جنین کی تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ بطن مادر میں ہی جب انسانی مادہ وجود میں آتا ہے اسی وقت انسان کے کروموزوم اور ڈی این اے بنتے ہیں جو اس انسان کی جسمانی ساخت، افعال کی نوعیت اور دوسرے انسانوں سے ممتاز بہت سی صفات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔پچھلی دفعہ عناصر اربعہ سے انسانی تخلیق اور مزاج کے وجود میں آنے کی جوبحث کی گئی تھی اسے آج کے مضمون سے جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوجائے گا کہ مزاج کا تصور جنینیات کو سمجھنے میں بھی معاون ہے۔ گویا سماج میں طبی بیداری پیدا کرنے کے لئے ہمیں کئی مشکل مباحث سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ ضرورت ہے کہ جدید طب کی پریکٹس کرنے والے بھی اسے سمجھ کر اپنی پیتھی کے ساتھ ضم(Integrate) کریں اورطب یونانی کے اس نظریہء مزاج کو عام کیا جائے۔

Sunday, 24 December 2017

*بغیر سند کے طبی پریکٹس کرنے والوں کے لئے ایک اہم پیغام*

طب ایک ایسا شعبہ ہے جس کا انسانی زندگی سے راست تعلق ہے۔ امراض و علاج اور ادویہ کی تاثیرات کے متعلق بکثرت نظریات (Theories) اور طریقے پائے جاتے ہیں اور ہر ایک میں افادیت کا کچھ نہ کچھ حصہ ہونے کی وجہ سے سب کے ساتھ کم و بیش انسانی صلاحیتیں جڑ جاتی ہیں۔ تلاش معاش و عزت کی طلب میں اور بسا اوقات جذبہء ہمدردی میں بہت سے ناواقف لوگ بھی اس شعبے سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔

دین اسلام ایک مکمل طریقہءحیات ہونے کی وجہ سے اس سلسلے میں بھی ہماری اصولی رہبری کرتا ہے۔ ماضیء اسلام میں کچھ ایسے باصلاحیت علماء گزرے ہیں جنھوں نے عام سطح سے اوپر اٹھ کر علوم و فنون کے ہر شعبے کے جملہ حقوق و ضروریات کا تحقیقی جائزہ لے کر نصوص کی روشنی میں ان کے اصول و ضوابط اور اجتہادی نکات بیان کیے ہیں تاکہ امت میں صحیح علمی و دینی مزاج باقی رہے اور جہالت کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ ان کا یہ اقدام اپنے زمانے کی لغزشوں اور غلط رجحانات کے مشاہدات کے رد عمل میں بھی رہا ہوگا۔

انہی مجددین میں امام غزالی اور شاہ ولی اللہ دہلوی علیہما الرحمة ہیں۔ امام غزالی احیاء العلوم جلد اول میں علم کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔" شرعی علوم سے ہم وہ علوم مراد لیتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے ذریعے ہم تک پہونچے ہیں۔ عقل، تجربے اور سماعت کا ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ علم حساب علم طب علم لغت شرعی علوم نہیں ہیں۔ کیونکہ ان میں پہلے کا تعلق عقل سے دوسرے کا تجربے سے اور تیسرے کا سماع سے ہے۔"
یہاں صاف کہہ دیا گیا ہے کہ علم طب کا تعلق تجربے سے ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے حجة الله البالغه میں اس کے آگے کی بات لکھی ہے۔ وہ ایک حدیث (مفہوم حدیث یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دینی معاملے میں تم سے زیادہ میں جانتا ہوں اور دنیاوی معاملے میں تم لوگ زیادہ جانتے ہو۔) کے ذیل میں طب نبوی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں۔ " اس کی حیثیت تبلیغی و تشریعی نہیں ہے اور وہ آپ کےاور اہل عرب کے تجارب و عادات پر مبنی ہے"۔
اہل عرب کے یہاں ان کے اور آس پاس کی قوموں کے تجربات کی بنیاد پر جو علاجی طریقے (Traditional Medicine) رائج تھے عموماً وہی طب نبوی میں ملتے ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ بعض علاج وحی کے ذریعے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائے گئے لیکن بحیثیت مجموعی پورا علم طب نہ وحی سے ماخوذ ہے نہ یہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ہے۔ اسی لئے شاہ صاحب نے فرمایا کہ اس طب سے متعلق نبوی ہدایات تبلیغ کے لئے نہیں اور نہ ان کو شریعت کا جزء سمجھ کر عمل کرنا ضروری ہے۔

دیکھئے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کی عیادت پر انھیں عجوہ کھجور گھٹلی سمیت استعمال کرنے کی تاکید فرمائی جاتی ہے اور ساتھ ہی اس دور کے مشہور طبیب حارث بن کلدہ ثقفی (جو یونانی طب کے مدرسہ جندی شاپور سے تعلیم یافتہ تھے) کے پاس بغرض علاج لے جانے کی ہدایت بھی دی جاتی ہے۔
ظاہر ہے جیسے جیسے تجربے بڑھیں گے ماہرین علم طب کی طرف سے اسی اعتبار سے تشخیص امراض اور علاج معالجے میں ترقیات اور تبدیلیاں ہوں گی۔ نئے معالجات، ادویات اور تدابیر معلوم ہوتی رہیں گی۔ اسی لحاظ سے تعلیم و تربیت کے انداز ضرورتاً بدلے جائیں گے۔ ماہرین فن کی جانب سے صحیح طبی ہدایات اور رہنما اصول (Guidelines) جاری کئے جائیں گے۔ انسانوں کی صحت کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لئے قوانین بنائے جائیں گے۔ دین اسلام اس نہج کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

مولانا حبیب الرحمان خان شیروانی صاحب نے 'علمائے سلف' میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ "٣١٩ ھ میں خلیفہ مقتدر باللہ کو یہ سن کر سخت افسوس ہوا کہ شہر بغداد میں ایک شخص کی جان کسی طبیب کے جہل مرکب کی نذر ہوگئی۔ آئندہ کی انسداد کے لئے رئیس الاطباء ابن ثابت کے نام یہ حکم صادر کیا گیا کہ تمام اطبائے بغداد کا امتحان لیا جائے۔ جو امتحان میں کامیاب ہوں ان کو سند عطا کی جائے اور جو ناکامیاب ہوں ان کو علاج کرنے سے روک دیا جائے۔ بغرض مزید احتیاط سند میں اس امر کی تشریح بھی ہو کہ دارندہء سند کو فلاں فلاں قسم کے امراض کے معالجے کی اجازت ہے تاکہ وہ انہیں امراض کا علاج کرسکے جن سے اس کو پوری واقفیت ہو۔ ابن ثابت نے فرمان خلافت کی تعمیل کی اور کل اطبائے دار السلام کا امتحان لیا۔دارالخلافة کے دونوں حصوں میں جن اطباء کو سند عطا کی گئی ان کی تعداد کچھ کم نو سو تھی۔" سند کی قانونی ضرورت اُس زمانے میں اہل اسلام نے محسوس کی تو آج اور بھی ضروری ہے کہ ہر طرف دھوکے بازی کا بازار گرم ہے۔ غیر سند یافتہ طبابت کرنے والے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کیا اس طرح وہ خیانت کے مرتکب نہیں ہورہے ہیں یا کم ازکم جاہل اطباء کے گروہ کی امداد نہیں کر رہے ہیں؟

بہت سے فقہی مسائل میں 'ماہر طبیب کی رائے' کی قید جو لگائی گئی ہے اس میں غالباً ایک نکتہ یہ بھی علماءکے پیش نظر رہا ہوگا ہے کہ آنے والے دور میں نئے مشاہدات کی روشنی میں ممکن ہے امراض کی ماہیئت یا تشریح بدن زیادہ منقح و مصرح ہوجائے۔ ورنہ سینکڑوں علماء ایسے گزرے ہیں جو شریعت کے متبحر عالم ہونے کے ساتھ ساتھ عملاً پایے کے طبیب بھی تھے۔ وہ چاہتے تو اپنے زمانے کے علم طب کی روشنی میں بہت سے ایسے مسائل میں جن میں طب کی ضرورت ہوتی ہے بجائے 'ماہر طبیب کی رائے' لکھنے کہ مفصل طبی نکات لکھ جاتے۔

ماضی میں تجربات اتنے زیادہ نہیں ہوئے تھے جتنے آج ہوچکے لہذا ماضی کے تعلیمی طریقے اور اصول و قوانین کو آج کے دور پر پوری طرح منطبق نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں! ماضی و حال دونوں کی مفید ہدایات کو اس طرح ضم (Integrate) کیا جاسکتا ہے کہ افادیت کا پہلو بڑھ جائے اور مضرت کا کم سے کم ہوجائے۔

ایلوپیتھی کے علاوہ دوسری تمام طریقہ ہائے علاج (یونانی، آیوروید، ہومیو پیتھی وغیرہ) کے بارے میں یہ عوامی رجحان ہے کہ ان سے نقصان نہیں ہوتا لہذا کوئی شخص بھی تھوڑی بہت جانکاری حاصل کرکے ان کے ذریعے علاج کرسکتا ہے۔ یہ فکری بنیاد غلط ہے اور جہالت پر مبنی ہے۔ طب یونانی میں دواؤں کے چار درجات مقرر کئے گئے ہیں۔ تیسرے اور چوتھے درجہ کی دوائیں بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی تاکید ہے۔ کچھ دواؤں میں غذائی اجزاء ہوتے ہیں اور کچھ غذاؤں میں دوائی اجزاء ہوتے ہیں۔ مطلق غذا کے استعمال سے نقصان نہ ہونا سمجھا جائے تو کسی حد تک ٹھیک ہے ورنہ چاہے دوائے غذائی ہو یا غذائے دوائی یا مطلق دوا ہر ایک کی مضرت (Side Effect) بیان کی گئی ہے۔  مضرت سے اس وقت حفاظت ہوتی ہے جب بیمار اور بیماری کے مزاج کا خیال کرتے ہوئے مناسب کیفیت کی دوا مناسب مقدار میں دی جائے۔ اس کے لئے کم از کم طب کے بنیادی امور، علم منافع الاعضاء، علم تشریح، علم ماہیئت امراض، علم الادویہ، علم تشخیص، علم العلاج، علم الجراحت (Anatomy, Physiology, Patholgy, Pharmacology, Clinical Medicine, Surgery) سے واقفیت ضروری ہے۔ ورنہ جس طرح  لغت، حدیث، فقہ سے پوری واقفیت کے بغیر قران فہمی میں غلطیاں ہوں گی اور ایمان خطرے میں ہوگا اسی طرح درج بالا طبی علوم کے بغیر کوئی علاج شروع کردے تو مریضوں کی جان خطرے میں ہوگی۔

آج کل بہت سے عصری تعلیم یافتہ یا دینی تعلیم یافتہ یا دینی جذبات رکھنے والے افراد (جنھوں نے طبی کورس نہیں کیا ہے) یونانی یا ہومیوپیتھی یا حجامہ تھیراپی کی پریکٹیس کر رہے ہیں یا کسی طریقے سے علاج معالجے میں مصروف ہیں۔ ان کا یہ طرز بالکل درست نہیں ہے۔
اس زمانے میں یونانی علاج کرتے ہوئے ہائے بلڈپریشر، شوگر جیسے بہت سے امراض (جن کی وضاحت جدید طب سے ہوئی ہے) کا سمجھنا اور ان کے عوارضات کا خیال کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ مثلاً کچھ یونانی دوائیں پریشر کو بڑھاتی بھی ہیں۔
اس طرح حجامہ کے دوران مریض کو غشی بھی آسکتی ہے اور اگر ایسی جگہ کپ لگادیا گیا جہاں سے خون کی شریان (Artery) گزرتی ہے تو مریض کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ کسی کسی شخص میں خون کی نسوں کا مقام طبعی طور سے مختلف بھی ہوتا ہے۔ کچھ بیماریوں میں ممکن ہے کسی مریض کا خون روکنا مشکل ہوجائے۔ ایسی صورتوں میں مریضوں کا جانی نقصان ظاہر ہے۔

ِِاِس دور میں مستند اور بنیادی طبی کورسیس سے فارغ اطباء کو یہ علوم پورے مستحضر نہ ہوں تب بھی ان سے بنیادی واقفیت ضرور رکھتے ہیں تجربہ یافتہ اطباء کی نگرانی میں علاج کرنا سیکھتے ہیں اور طب کی نئی تحقیقات و اضافے سے بھی انھیں آگاہی ہوتی رہتی ہے اور اتنی قابلیت ہوتی ہے کہ نئی تحقیقات اور اس کی عملی افادیت کو سمجھ سکیں۔وہ جانتے ہیں کہ ایمرجنسی حالات میں کونسی فوری طبی امداد (First Aid) دینی چاہیے اور مریضوں کو کب کہاں ریفر کرنا چاہئے۔ کسی شخص کے لئے اس دور میں عملاً یہ نا ممکن ہے کہ بغیر ان کورسیس کے وہ اس قابل ہوجائے۔

طب کا علم حاصل کرنے کی ترغیب سب کو دینی چاہئے کہ یہ ایک مفید علم ہے۔ اور دینی شعبوں کے لوگ اس سے واقفیت رکھیں تو طب کے نئے فقہی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں سہولت ہوگی۔ لیکن مقررہ طریقہء تعلیم سے گزرے بغیر معالجات کرنے سے روکنا ہی چاہئے۔ بلکہ وہ لوگ جو عوام میں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہوں ان کو بدرجہء اتم اس سے رکنا چاہئے۔ واللہ المستعان۔

🖋 *ڈاکٹر محمد یاسر*
ریسرچ اسوسئیٹ
ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین ممبئی۔
کنسلٹنگ یونانی فزیشین
الحکیم یونانی میڈی کیئر سینٹر ممبئی۔
yasirm7@gmail.com